پہلے 10 دنوں میں اتنی برکت ہوتی ہے ۔یہ عمل اللہ کو بہت پسند ہے

حضور ﷺ نے فرمایا توبہ کرنے والا اس طرح ہے جس طرح اس نے کوئی گناہ کیا ہی نہیں ، انسان خطا و نسیان کا پتلہ ہے کوئی نہ کوئی لغزش ہوجاتی ہے غلطی ہوجاتی ہے خطا ہوجاتی ہے انبیاء ؑ گناہوں سے پاک ہیں معصوم ہیں ان کا ایمان روز بروز بڑھتا رہتا ہے بلندی پر جاتا رہتاہے اورفرشتے ایسی مخلوق ہیں جن کا ایمان ایک جگہ پر قائم ہے نہ وہ کم ہوتا ہے نہ زیادہ اس کے ساتھ جو تمام انسان ہیں ان کی حالت یہ ہے کبھی ان کا ایمان بڑھ جاتا ہے اور کبھی کم ہوجاتا ہے انسان اچھے عمل کرتا ہے تقوی و طہارت کی زندگی گزارتا ہے اعمال صالحہ کرتا ہے اللہ کے ذکر میں مشغول رہتاہے تو ایمان بڑھتا رہتا ہے اور جب انسان گناہوں میں مبتلا ہو جاتا ہے نافرمانی کرتا ہے والدین کی نافرمانی ، محبوب ﷺ کے حکموں کی نافرمانی اللہ کے حکموں کو پامال کرتا ہے تو اس کا ایمان گھٹنا شروع ہوجاتا ہے
یہ کیفیت ہے انسان سے غلطی ہوجانا یہ کوئی عیب کی بات نہیں ہے یہ کوئی جرم نہیں ہے انسان ہے ہی خطا ونسیان کا پتلہ ہاں غلطی کے اوپر قائم رہنا ڈٹ جانا غلطی کو غلطی نہ سمجھنا یہ بہت بڑا جرم ہے یہ سمجھیں کہ ناقابل معافی جرم ہے بدترین جرم ہے کہ غلطی بھی کرے اور غلطی کو تسلیم بھی نہ کرے غلطی پر غلطی کرتا ہی چلا جائے یہ جرم عظیم ہے کوئی بھی کیفیت ہو انسان کی گناہ کے معاملے میں سب سے بہتر حل یہ ہے کہ اللہ کی بارگاہ میں توبہ کرے معافی مانگیں آپﷺ نے فرمایا گناہوں سے توبہ کرنے والا اس طرح ہے جس طرح کہ اس نے کوئی گناہ کیا ہی نہیں اللہ کو توبہ اتنی پسند ہے اب توبہ کرنی کس طرح ہے بندہ جب یہ سمجھے کہ مجھ سے بہت بڑی غلطی ہو گئی ہے بہت بڑا گناہ سرزد ہوگیا ہے تو وضو کرے اور وضو کرنے کے بعد فورا اللہ کی بارگاہ میں کھڑا ہو کر دو رکعت نماز صلوٰۃ التوبہ ادا کرے اور اس کے بعد گڑگڑا کر معافی مانگے آنسو بہائے کہ یا اللہ تو کرم والا معاملہ فرما دے تو رحمت والا معاملہ فرما دے مجھ سے غلطی ہوگئی میں قصور وار ہوں التجا کرے ربنا ظلمنا انفسنا اے رب میں نے ظلم کیا اپنے آپ پر وان لم تغفر لنا اگر تونے مجھے نہ بخشا وترحمنا تونے مجھ پر رحم نہ کیا لنکونن من الخاسرین میں نقصان اٹھانے والا خسارے میں ہوجاؤں گا
اس طرح اللہ کی بارگاہ میں التجا کیجئے دو رکعت نماز نفل صلوۃ التوبہ اداکرنے کے بعد گڑگڑا کر اللہ سے معافی مانگیں اب اللہ کی رحمت اتنے جوش میں آجائے گی تمہارے معافی مانگنے میں تو دیر ہوگی لیکن اس کے معاف کرنے میں دیر نہیں ہوگی اتنی جلدی ماں بھی بیٹے کے قصور کو معاف نہیں کرتی جتنا اللہ جلدی معاف فرمادیتا ہے اس لئے گناہ ہوجائے تو پریشان ہونے کی ضرورت نہیں اس کی رحمت بڑی وسیع ہے آپﷺ کے پاس ایک آدمی گیا حاضر ہو ا کہنے لگا مجھ سے غلطی ہو گئی گناہ ہو گیا آپ نے فرمایا کتنا بڑا گناہ ہوگیا کیا آسمان سے ستارے جو چمکتے ہیں ان سے بھی زیادہ ہے تیرا گناہ کہنے ہاں اسے بھی زیادہ پھر آپ نے پوچھا کیا روئے زمین پر جتنے پانی کے قطرے ہیں دریاؤں سمندروں کے بارشوں کے ندی نالوں کے ان سے بھی زیادہ ہے کہنے لگاہاں اس سے بھی زیادہ ہے آپ نے پوچھا روئے زمین پر جتنے درخت ہیں کیا ان کے پتوں سے بھی زیادہ کہنے لگا ہاں اس سے بھی زیادہ پھر آپ نے پوچھا روئے زمین کے اوپر جتنے ریت کے ذرات ہیں کیا ان سے بھی زیادہ اس نے کہاں ہاں اس سے بھی زیادہ پھر آپ نے پوچھا کیا اللہ کی رحمت سے بھی تیرے گناہ زیادہ ہیں وہ خاموش ہوگیا آپﷺ نے فرمایا اللہ کی رحمت ہر چیز کے اوپر حاوی ہے غالب ہے اللہ کی رحمت اتنی وسیع ہے کتنے بڑے گناہ ہوجائیں زمین و آسمان کا خلا گناہوں سے بھر دو ایک دفعہ سچے دل سے توبہ کرلو معافی مانگ لو اللہ سارے گناہ معاف فرماد ے گا۔اللہ ہم سب کا حامی وناصر ہو۔آمین