اللہ کےپیارے محبوب ﷺ نے فرمایا: یہ بہترین سالن ہے ۔۔؟؟

غربت ہو یا کشادگی رزق ، یہ سب اللہ پا ک کی طرف سے ہوتا ہے۔ جسے چاہے نواز دے ، جسے چاہے آزمائش میں ڈال دے۔ اب تو لگ بھگ ہر دوسرے گھر کی کہانی لگتی ہے۔ لوگ مالی طور پر پریشان ہیں۔ اور اپنے اخراجات پورے نہ ہونے پر مسائل کا شکار رہتے ہیں۔ اور ہردوسرت شخص کے سامنے اپنی پریشانیاں شئیر کرنے میں بھی نہیں ہچکچاتے ہیں۔ یعنی توکل تو آج کل ناپید ہوتا جارہا ہے۔ لیکن اگر یہ کہا جائے کہ آج کل بہت سے لوگ اللہ کا سب دیا سب کچھ ہونے کے باوجود پھر بھی ناشکرے ہیں۔

تو غلط نہ ہوگا۔ جو ناشکرے ہیں ا ن کا حل تو ہمارے پاس نہیں ہے۔ البتہ جنہیں تدبیر نے آزمائش ڈالا ہوا ہے یہ آرٹیکل ان کےلیے بہت فائدہ مند ثابت ہوگی۔ آپ کو رسول اکرمﷺ کاوہ فرمان سناتے ہیں۔ بحثیت مسلمان ہمیں چاہیے کہ ہم ہر حال کلام اللہ اور پیارے رسول کریمﷺ کی تعلیمات سے رہنمائی حاصل کریں۔ کیونکہ ہر مسلمان کے لیے نبی کریم ﷺ کی زندگی مشعل راہ ہے۔ اور آپ ﷺ ہی کی زندگی سے ہمیں بہت سی ایسی روایات ملتی ہیں۔ جن میں خوردو نوش کے فوائد کا تذکر ہ ملتا ہے۔ ہم آپ کو ایسے چیز کے بارے میں بتانے جارہے ہیں۔ جس کے متعلق آپ ﷺ نے فرمایا: جس گھرمیں موجود ہوگی۔ وہ کبھی بھی غریب نہیں ہوسکتا۔ اس لیے ہر انسان کو چاہیے کہ اپنے گھر اس چیز کو رکھے۔ وہ چیز آخر ہے کیا ؟ اللہ پا ک نے انسان کی دنیاوی زندگی کو اسباب کے ساتھ جوڑ ا ہے اور دنیاوی اسباب اور ضروریات میں ایک بنیادی ضرورت مال ودولت ہے۔ اگر انسان کے پاس مال ودولت موجود ہوتو انسان کی زندگی سہولت اور آسائشوں میں گزرتی ہے۔

انسان اپنی ضروریات احسن طریقے سے پور ا کرتا ہے اور اس کے برعکس اگر انسان مالی تنگی کا سامنا ہو تو انسان کو اپنی ضروریات کےلیے محتاجی اور سخت پریشانی کا سامنا کر نا پڑتا ہے۔ جو لوگ غربت اور افلاس سے گھر ے ہوئے ہیں ان کو بے خوبی اندازہ ہوگا کہ مالی تنگدستی کس قدر پریشانی کا باعث بنتی ہے۔ اب آپ کو بتاتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے کسی چیز کو بہترین سالن قرار دیا ۔ کس چیز کے بارے میں فرمایاکہ جس گھرمیں یہ چیز ہوگی وہ گھر کبھی بھی غریب نہ ہوگا۔ صیحح مسلم میں روایت ہے کہ حضرت جابر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں۔ کہ ایک دن رسول کریم ﷺ میرا ہاتھ اپنے گھر کی طرف تشریف لے گئے۔ تو آپﷺ کی خدمت میں روٹی کے چند ٹکڑے پیش کیے گئے۔ آپﷺ نے فرمایا: کیا کوئی سالن ہے۔ گھر والوں نے عرض کیا نہیں ۔ صرف کچھ سرکہ ہے۔ آ پﷺ نے فرمایا: سرکہ بہترین سالن ہے۔ حضرت جابر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں۔

جس وقت سے میں نبی کریمﷺ سے یہ سنا مجھے سرکہ سے محبت ہوگئی ہے۔ اورحضرت ابو طلحہٰ فرماتے ہیں۔ کہ میں نے حضرت جابر سے جس وقت سے یہ حدیث سنی ہے تومجھے بھی سرکے سے محبت ہوگئی ہے۔ ابن ماجہ میں ایک اور حدیث یوں بیان کی گئی ہے۔ حضرت ام سعد رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں۔ میں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس موجود تھی کہ رسول کریمﷺ تشریف لائے اور فرمایا: کہ کچھ کھانا ہے، فرمانے لگی کہ ہمارے پاس روٹی ، کھجور اور سرکہ ہے۔ اس پرآپ ﷺ نے فرمایا کہ بہترین سالن سرکہ ہے۔ اے اللہ! سرکے میں برکت فرما کر مجھ سے پہلے انبیاء کا سالن ہے۔ اور جس گھر میں سالن ہو وہ محتا ج نہیں ۔ آج کل بازارمیں خالص سرکہ دستیاب نہیں ہے۔ اس کےلیے چاہیے کہ خالص سرکہ استعمال کیا جائے اور اس کو گھر میں رکھا لیا جائے ۔ تاکہ گھر میں برکت ہوسکے