کروڑوں کا قرض اللہ پاک اپنے ذمے لے لے گا۔

درود پاک کی فضیلت بہت سی کتابوں میں مختلف طریقوں سے وارد ہوئی ہے اور درود پاک بھی حضور پاک نے اور بعد میں اولیاء اللہ نے کئی قسم کے سکھائے ہیں درود پاک کی فضیلت کے حوالے سے ایک واقعہ پیش خدمت ہے۔کسی شخص نے کسی دوست سے تین ہزار دینار قرض لیا اور واپسی کی تاریخ مقرر ہوگئی۔

مگر ہوتا وہی ہے جو اللہ تعالیٰ کو منظور ہو۔ اُس شخص کا کاروبار معطل ہوگیا اور وہ بالکل کنگال ہوکر رہ گیا۔ قرض خواہ نے تاریخِ مقررہ پر پہنچ کر قرضہ کی واپسی کا مطالبہ کیا۔ اُس مقروض نے معذرت چاہی کہ بھائی میں مجبور ہوں میرے پاس کوئی چیز نہیں ہے۔ قرض خواہ نے قاضی کے ہاں دعویٰ دائر کردیا۔

قاضی صاحب نے اُس مقروض کو طلب کیا اور سماعت کے بعد اُس مقروض کو ایک ماہ کی مہلت دی اور فرمایا کہ اِس قرضہ کی واپسی کا انتظام کرو۔ مقروض عدالت سے باہر آیا اور سوچنے لگا

کہ کیا کروں ممکن ہے اس نے کہیں یہ پڑھا ہو یا علماء سے سنا ہوکہ رسولِ اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ واصحابہ وسلم کا ارشادِ گرامی ہے، جس بندے پر کوئی مصیبت ، کوئی پریشانی آجائے تو وہ مجھ پر درودِ پاک کی کثرت کرے کیونکہ درودِ پاک مصیبتوں پریشانیوں کو لے جاتا ہے اور رزق بڑھاتا ہے الحاصل اُس نے عاجزی اور زاری کے ساتھ مسجد کے گوشے میں بیٹھ کر درودِ پاک پڑھنا شروع کردیا ۔

جب ستائیس(27) دن گزرگئے تو اُسے رات کو ایک خواب دکھائی دیا ، کوئی کہنے والا کہتا ہے اے بندے! تو پریشان نہ ہو ، اللہ تعالیٰ کارساز ہے تیرا قرض ادا ہوجائے گا۔ تو علی بن عیسیٰ وزیرِ سلطنت کے پاس جا اور جاکر اُسے کہہ قرض ادا کرنے کے لیے مجھے تین ہزار دینار دے دے۔ فرمایا جب میں بیدار ہوا تو بڑا خوشحال تھا۔

پریشانی ختم ہوچکی تھیں لیکن یہ خیال آیا کہ اگر وزیرصاحب کوئی دلیل یا نشانی طلب کریں تو میرے پاس کوئی دلیل نہیں ہے ۔ دوسری رات ہوئی جب آنکھ سوگئی تو قسمت جاگ اُٹھی۔ مجھے آقائے دوجہاں ،رحمتِ عالم صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ واصحابہ وسلم کا دیدار نصیب ہوا۔حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ واصحابہ وسلم نے بھی علی بن عیسیٰ کے پاس جانے کا ارشاد فرمایا، جب آنکھ کھلی تو خوشی کی انتہا نہ تھی۔

تیسری رات پھر اُمّت کے والی صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ واصحابہ وسلم تشریف لاتے ہیں اور پھر حکم فرماتے ہیں کہ وزیر علی بن عیسیٰ کے پاس جاؤ اور اُسے یہ فرمان سنا دو۔ عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ واصحابہ وسلم ! (فداک ابی وامی) میں کوئی دلیل یا علامت چاہتا ہوں جو کہ اس ارشاد کی صداقت کی دلیل ہو ۔

یہ سُن کر حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ واصحابہ وسلم نے میری عرض کی تحسین فرمائی اور فرمایا کہ اگر وزیر تجھ سے کوئی علامت دریافت کرے تو کہہ دینا اس کی سچائی کی علامت یہ ہے کہ آپ نمازِ فجر کے بعد کسی کے ساتھ کلام کرنے سے پہلے پانچ ہزار درودِ پاک کا تحفہ دربارِ رسالت میں پیش کرتے ہو جسے اللہ تعالیٰ اور کراماً کاتبین کے سوا کوئی نہیں جانتا۔

یہ فرماکر سیّد دو عالم صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ واصحابہ وسلم تشریف لے گئے ۔ میں بیدار ہوا، نمازِ فجر کے بعد مسجد سے باہر قدم رکھا اور آج مہینہ پورا ہوچکا تھا، میں وزیر صاحب کی رہائش گاہ پر پہنچا اور وزیر صاحب سے سارا قصہ کہہ سنایا جب وزیر صاحب نے کوئی دلیل طلب کی اور میں نے حضور محبوبِ کبریا صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ واصحابہ وسلم کا ارشاد سنایا

تو وزیر صاحب خوشی اور مسرت سے چمک اٹھے اور فرمایا،مرحبا! برسول اللہ حقًا اور پھر وزیر صاحب اندر گئے اور نوہزار دینار لے کر آگئے ۔اُن میں سے تین ہزار گن کر میری جھولی میں ڈال دیے اور فرمایا یہ تین ہزار قرضہ کی ادائیگی کے لیے اور پھر تین ہزار اور دیے کہ یہ تیرے بال بچے کا خرچ اور پھر تین ہزار اور دیے اور فرمایا یہ تیرے کاروبار کے لیے ، اور ساتھ ہی وداع کرتے وقت قسم دے کر کہا اے بھائی! تو میرا دینی اور ایمانی بھائی ہے خدارا یہ تعلق و محبت نہ توڑنا اور جب بھی آپ کو کوئی کام، کوئی حاجت درپیش ہو، بلا روک ٹوک آجانا میں آپ کے کام دل و جان سے کیا کروں گا۔

فرمایا کہ میں وہ رقم لے کر سیدھا قاضی صاحب کی عدالت میں پہنچ گیا اور جب فریقین کو بلاوا ہوا تو میں قاضی صاحب ! کے ہاں پہنچا اور دیکھا کہ قرض خواہ مبہوت کھڑا ہے ۔ میں نے تین ہزار گن کر قاضی صاحب کے سامنے رکھ دیے، اب قاضی صاحب نے سوال کردیا کہ بتا تو یہ اتنی دولت کہاں سے لے آیا ہے ؟

حالانکہ تو مفلس اور کنگال تھا۔ میں نے سارا واقعہ بیان کردیا ۔قاضی صاحب یہ سن کر خاموشی سے اٹھ گئے اور گھر سے تین ہزار دینار لے کر آگئے اور فرمایا ساری برکتیں وزیر صاحب ہی کیوں لوٹ لیں ، میں بھی اُسی سرکار کا غلام ہوں ،

تیرا یہ قرضہ میں ادا کرتا ہوں جب صاحبِ دَین(قرض والے) نے یہ ماجرا دیکھا تو وہ بولا کہ ساری رحمتیں تم لوگ ہی کیوں سمیٹ لو ، میں بھی ان کی رحمت کا حقدار ہوں، یہ کہہ کر اس نے تحریر کردیا کہ میں اِس کا قرض اللہ جل جلالہ و رسول صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ واصحابہ وسلم کے لیے معاف کردیا ۔

اور پھر مقروض نے قاضی صاحب سے کہا آپ کا شکریہ! لیجیے اپنی رقم سنبھال لیجیے! تو قاضی صاحب نے فرمایا اللہ تعالیٰ اور اس کے پیارے رسول صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم کی محبت میں جو دینار لایا ہوں وہ واپس لینے کو ہرگز تیار نہیں ہوں ، یہ آپ کے ہیں آپ لے جائیں ۔ تو میں بارہ ہزاردینار لے کر گھر آگیا اور قرضہ بھی معاف ہوگیا ۔ یہ برکت ساری کی ساری درودِ پاک کی ہے ۔اللہ پاک ہم سب کا حامی وناصر ہو۔