ماہواری روکنے کیلئے رمضا ن المبارک کےمہینے میں گولی کا استعمال کریں

آج کا سوال اگر عورت ماہواری روکنے کیلئے رمضان المبارک کے مہینے میں دوائیوں کا استعمال کرے تاکہ روزے خراب نہ ہوں تو کیا یہ عمل درست ہوگا یا نہیں ۔اس سوال کا جواب یہ ہے کہ حیض کا خ و ن بند کرنے کیلئے دوا کا استعمال کرنا ناجائز تو نہیں البتہ بعض اوقات طبی لحاظ سے یہ عورت کیلئے نقصان دہ ہوتا ہے ۔ اس سے ماہواری کے ایام میں بے قاعدگی بھی ہوجاتی ہے

جس سے بہت سے مسائل جنم لیتے ہیں جبکہ اللہ تعالیٰ نے اسے ان ایام میں معذور رکھا ہے ان دنوں میں نماز روزہ ادا کرنے پر کوئی مواخذہ نہیں ہے نماز معاف ہے اور روزوں کی قضا دیگر ایام میں کرنی ہوتی ہے اس طرح کرنے سے عورت کے اجر میں کوئی کمی نہیں ہوتی ۔ ایسی مشقت اٹھانے اور تکلیف کی ضرورت نہیں ہے عورت کو چاہیے کہ رمضان میں مخصوص ایام کے دوران روزے چھوڑ دے او رپاکی کے دنوں میں ان روزوں کی قضا کرلے البتہ اگر کسی عورت نے حیض آنے سے پہلے دوائی کھائی جس سے حیض کا خ و ن نہیں آیا تو جب تک خ و ن جاری نہ ہو وہ عورت پاک ہی شمار ہوگی

ان ایام میں نماز پڑھے گی اور روزہ رکھے گی اس کا نماز اور روزہ ادا ہوجائیگا اسی طرح ایک سوال کہ کیا داڑھی رکھنا ضروری ہے اگر رکھنا ضروری ہے تو کیوں ۔ اسلام میں میں مردوں کو داڑھی رکھنے کی تاکید کا حکم ہے اور یہ کئی وجوہات سے ضروری ہے آپ ﷺ نے داڑھی رکھنے کو ان اعمال میں شمار کیا ہے جو تمام انبیائے کرام کی سنت ہیں پس جس چیز کی پابندی حضرت آدم ؑ سے لیکر آنحضرتﷺ تک خدا کی سارے نبیوں کی ہوایک مسلمان کیلئے اس کی پیروی جس درجہ ضروری ہوسکتی ہے وہ آپ خود اندازہ کرسکتے ہیں ۔

دوسری بات آپ ﷺ نے داڑھی بڑھانے اور لبیں تراشنے کو فطرت فرمایا جس سے معلوم ہوتا ہے کہ داڑھی تراشنا خلافت فطرت عمل ہے ایک مسلمان کیلئے فطرت صحیحا کے مطابق عمل کرنا اور خلاف فطرت سے گریز کرنا جس قدر ضروری ہوسکتا ہے وہ بعض رہیں ۔ آپﷺ نے امت کو اس کی تاکید کا حکم فرمایا ہے اور آپﷺ کے تاکیدی احکام کا ضروری ہونا سب کو معلوم ہے ۔ چوتھی بات یہ ہے کہ آپﷺ نے اس کا حکم فرماتے ہوئے یہ تاکید فرمائی ہے کہ مشرکوں کی مخالفت کرو جس سے معلوم ہوتا ہے کہ آپﷺ کے زمانے میں بھی داڑھی ترشنا بددین قوموں کا شعار تھا اور آپﷺ نے اپنی امت کو ان گمراہ قوموں کے خلاف فطرت تقلید کرنے سے منع فرمایا ہے